آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ھو گئی ۔۔ایسا لگ رھا تھا جیسے کیسی نوجوان سے مل رھا ھوں ۔۔سرخ سپید رنگت ۔۔چمکتا ھوا چہرہ ۔۔آنکھوں میں جزبے کے ساتھ ساتھ درویشوں والی عاجزی ۔۔جیل کی سختیوں نے وزن خاصا کم کر دیا ھے ۔۔گرین رنگ کی کالروں والی قمیض اور اسکے اوپر گہرے کلر والی
رات میں اچانک آنکھ کھل جاتی ھے تو آٹھ کے بیٹھ جاتا ھوں۔یقین کرنے کو دل نہیں کرتا کہ تم نے ھمیں بیچ دیا۔۔میرا گلا خشک ھے۔۔بدن میں جان نہں۔۔زبان میں طاقت نیں ۔۔اب تمھارے دفاع میں کہنے کیلئے میرے پاس کچھ نہں
واہ کیا بات ھے آج تو قاضی صاحب نے بڑی جلدی نہ صرف TV دیکھ لیا بلکہ اپنی مرضی کے صحافیوں کو پندرہ منٹ کا انٹرویو بھی دیدیا ۔۔اپنے اوپر حرف آیا تو فوری ایکشنُ۔۔کسی دوسرے کی بات ھو تو ۔۔میں TV نہیں دیکھتا ۔۔زندہ باد آزاد عدلیہ زندہ باد
مطیع کے ساتھ گفتگو پر بہت خفگی ھے۔۔۔۔لیکن مطیع کچھ عرصہ سے صحافت کی آڑ میں صرف لوگوں کی بے عزتی کر رھا تھا۔۔اور اسکے ماسٹر اسکی تصیح کی بجاے اس کی حوصلہ افزائی کر رھے ھیں ۔ایک بھاری دل کے ساتھ آج اسے جواب اسی کی زبان میں دینا پڑا۔۔جو کہا وہ سچ ھے۔لیکن کہنا نہیں چاھتا تھا