بہت دنوں بعد
تیرے خط کے اداس لفظوں نے
تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
مری رگوں میں انڈیل دی ہے
بہت دنوں بعد
تیری باتیں
تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں
اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں
وصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر
محسن نقوی