صر دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی سمیت ہر کام میں ُسست تھا۔ایک دن اسکول میں
اردو کے استاد کا لیکچر سن رہا تھا،انھوں نے
کہا ”:علامہ اقبال نے نئی نسل کو شاہین صفت کہا تھا۔ان کے ہر شعر میں کوئی نہ کوئی پیغام چھپا ہوتا ہے۔ایک شعر میں شاع ِر مشرق نے نوجوانوں سے
خطاب کیا ہے۔اس میں بھی ایک نصیحت پوشیدہ تھی۔
جوانوں کو مری آ ِہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و َپر دے
اس شعر میں علامہ اقبال اللہ تعال ٰی کے حضور دعا کر رہے ہیں کہ اے میرے اللہ!میری قوم کے سارے نوجوانوں کو میری صبح کے وقت کی وہی فریاد عطا
کرنے کی توفیق دے جو ُتو نے مجھے دی ہے۔یہ شاہین بچے ہیں۔انھیں وہ بال و َپر یعنی وہ بازو اور پرواز کی وہ قوت عطا کر،جن کی مدد سے وہ بلندی
پر پہنچ کر کامیابی حاصل کر لیں۔
“شاہین جیسی پرواز کے لئے ہمت،جستجو،بلند سوچ،محنت،ریاضت درکار ہے اور اس کے لئے قوم کو ُسستی سے باہر نکلنا پڑے گا۔
یہ سن کر ناصر تو جیسے کہیں کھو گیا تھا۔نوجوانوں کے لئے علامہ اقبال کی سوچ اور فکر کے بارے میں سوچتا رہا۔گھر آ کر وہ خلا ِف معمول خاموش
رہا۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ سو گیا۔خواب میں اس کی ملاقات علامہ اقبال سے ہوئی۔
“انھوں نے تھپکی دیتے ہوئے ناصر سے کہا”:بیٹا!میں تم سب کا اقبال ہوں۔ ُاٹھو اور ایک نئی صبح کا آغاز کرو۔
ناصر کی آنکھ کھلی تو اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو اقبال کے افکار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔ہر وقت ُسست اور لا ُابالی سا نظر
آنے والا لڑکا چند ہی دنوں میں بدل چکا تھا۔اب وہ صبح صبح ُاٹھتا،نما ِز فجر ادا کرتا پھر صبح کی سیر کرتا اور پڑھائی پر بھی توجہ دیتا۔
اس کے اندر آنے والی اس تبدیلی پر لوگ حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی تھے۔
امی ابو نے اس سے اس خوشگوار تبدیلی کا پوچھ ہی لیا۔جس پر اس نے اقبال کے اشعار اور خواب میں آنے والے حضرت علامہ اقبال کے بارے میں بتایا۔
شاباش بیٹے شاباش!“ناصر کے ابو نے خوش ہو کر کہا۔”
پھر سب نے دیکھا کہ میٹرک کے امتحان قریب آتے ہی ناصر نے بھرپور محنت کی۔اس کے تمام پرچے بہت اچھے ہوئے۔تین ماہ بعد جب اس کا نتیجہ نکلا
تو اس نے بہت اچھے نمبر حاصل کیے تھے۔وہ اپنے اسکول میں دوم آیا تھا۔اس کے والدین،اساتذہ اور بہن بھائی بہت خوش تھے۔اس خوشی میں شام کو
گھر پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تو اس کا چہرہ خ
گدی پر اچانک پیچھے سے ایک زور دار ہاتھ کا چٹاخ سے پڑنا اور پھر لاہور کی اومنی بس میں سفر کرتے ہوئے الامان الحفیظ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
میں بھنا کر رہ گیا تھا،جی میں آیا بھی کہ اس بد تہذیبی کا جواب اسی وحشیانہ انداز میں دیا جائے۔چاہے کوئی دوست ہی کیوں نہ ہو۔بے تکلفی کی بھی
آخر ایک حد ہوتی ہے،مگر اس سے پہلے کہ میں اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہناتا،میرا جذبہ انتقام سرد پڑ گیا۔
صرف یہی سوچ کر کہ حماقت کا جواب حماقت سے نہیں دیا جاتا،میں نے غصیلی آنکھوں سے پلٹ کر دیکھا۔لمبی لمبی قلموں اور لمبی لمبی لام نما
زلفوں والا ایک شخص اپنے لبوں پر موج تبسم لیے مجھے درزیدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
ظاہری وضع قطع کے اعتبار سے ہماری یونیورسٹی یا ہمارے کسی کالج کا کوئی ہپی نظر آتا تھا جو اپنی ڈگریوں کے بدلے اپنی تہذیب یونیورسٹی کے پاس
رہن رکھ آیا ہو۔
میرا ہم عمر ہی تھا یا مجھ سے کچھ چھوٹا ہو گا۔
آپ نے مارا ہے یہ چپت؟“ میں نے پیشانی کو بل دیتے ہوئے اس سے پوچھا۔پہلے تو اس نے مجھے طنز آمیز نگاہوں سے گھورا اور پھر بڑے بے تکلف ”
انداز میں ”جی ہاں“ کہا۔اس کی اس دیدہ دلیری پر مجھے غصہ آ رہا تھا اور رہ رہ کر خوف بھی،نہ جانے کب کا بدلہ لیا ہے اس نے؟کون ہے یہ
شخص؟دماغ چکرا کر رہ گیا تھا۔
“ آخر کیوں؟“میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا ”میں تو آپ کو جانتا بھی نہیں۔”
“بہت خوب۔“اس نے اپنی بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔”پہلے پہچاننے کی کوشش کریں پھر وجہ بھی معلوم ہو جائے گی۔”
اس نے اس انداز سے یہ بات کہی تھی کہ میرا گمان یقین میں بدل گیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ اچھا ہی ہوا جو اپنے تھپڑ کو اس شخص کے رخسار
سے رسم آشنائی حاصل کرنے کا موقع نہ دیا ورنہ آج وہ گھڑنت ہوتی کہ ساری جنٹل مینی کرکری ہو کر رہ جاتی اور پھر بس میں سفر کرنے کا نام نہ
لیتے صاحب۔
“معاف کیجئے۔“میں نے ذرا سنبھل کر موٴدبانہ لہجے میں کہا۔”میری پہچان میں تو بالکل نہیں آ رہے آپ۔”
“ہاں بھئی،جب آدمی بڑا ہو جاتا ہے تو چھوٹا کب اس کی پہچان میں آتا ہے،دنیا کی ریت ہے ،آپ کا قصور نہیں۔”
میں نے یہ ُسنا تو کچھ جان میں جان آئی اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا ماضی ٹٹولنا شروع کر دیا۔کیونکہ بات ہی اتنے اعتماد سے کہی تھی اس نے
یہ،سکول سے کالج اور پھر کالج سے دفتر تک کے تمام ادوار پر نظر دوڑائی۔
بہتیرا ذہن پر زور ڈالا مگر اسی نتیجے پر پہنچا کہ اسے دھوکا ہو رہا ہے۔میں اس کا کبھی دوست نہیں رہا۔دوست تو یوں بھی میں نے کبھی بنایا ہی نہیں
اور پھر اتنا بے تکلف دوست۔پناہ،پناہ،خدا کی پناہ اور اگر صرف راہ و رسم ہی کو دوستی پر محمول کر لیا جائے تو وہ بھی ہمیشہ سلام دعا تک ہی
محدود رہی ہے۔ابھی میں اسی ُالجھن میں تھا کہ مجھے خیال آیا کہیں یہ جواد کا دوست تو نہیں،کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس کے دوست اسی
طرح مجھے مشق ستم بنا چکے تھے۔
آپ سمجھ رہے ہیں یعنی جواد جو میرا چھوٹا بھائی ہے۔” “ آپ کو دھوکا ہوا ہے۔“میں نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں وہ نہیں جسے
کا نام تھا،بالکل آپ جیسے۔“اتنا کہا اور شاید احساس ” معاف کیجئے۔“اس نے چونک کر کہا ”مجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔مجھے یاد آیا جواد ہی ان
نہ ہوں،بس ذرا احتیاط رکھیں آئندہ کے لئے،نظریں اکثر دھوکا شرمندگی سے اپنی گردن جھکا کر وہ کچھ سوچنے لگا۔میں نے کہا ”کوئی بات نہیں ،آپ پریشان
کھا جاتی ہیں۔
“
لگا ”میرا سلام کہیے ان سے،کیا کر رہے ہیں وہ آج کل۔ “اس نے مجھے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا اور کہنے
“سٹیٹ بینک میں ہے۔”
‘تنخواہ کتنی ہے؟”
ساڑھے آٹھ ہزار لا رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آرٹس کی ہمارے ملک میں قدر ہی کیا ہے بس اسی لیے دلبرداشتہ ہو کر نیشنل کالج آف آرٹس کو خیرباد ”
کہہ دیا تھا،قسمت کا دھنی تھا،فور ًا ہی ملازمت مل گئی۔
“
خدا کا شکر ہے۔“اس نے خوش ہو کر کہا اور اگلے سٹاپ پر سلام کرتے ہوئے ُاتر گیا۔”
گھر آیا تو میں نے جواد کو پورا واقعہ سنایا اور پھر خوب ہی ُب را بھلا کہا۔اگلے روز جواد مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔میں نے وجہ پوچھی،کہنے لگا۔
آج وہی دوست مجھے بس سٹاپ پر مل گیا تھا بھائی جان ،آپ کی طرح پہلے تو میں بھی اسے پہچان نہ سکا حالانکہ بہتیری کوشش کی اس کو ”
پہچاننے کی۔
کچھ دیر بعد ماضی کی اسی سے ملتی جلتی ایک شکل آنکھوں میں ُابھری۔اس کا نام خالد تھا۔مجھے یاد آ گیا تھا۔بڑا ہی شوخ و چنچل لڑکا ہے میرے
سکول کا۔کہنے لگا آؤ کچھ باتیں کریں۔بڑے دنوں بعد ملے ہیں آپ،گارڈنیا ہوٹل میں لے گیا اور بڑی ُپرتکلف چائے مجھے پلائی۔میں نے بل ادا کرنا چاہا
کیونکہ تنخواہ لے کر ہی تو دفتر سے چلا تھا،وہ ُبرا مان گیا اور مجھے بل ادا نہ کرنے دیا۔
“دروازے سے باہر نکلے تو وہ مجھے لپٹ گیا اور حسرت آمیز لہجے میں بولا ”اب کب ملیں گے آپ؟
“میں نے ممنون ہو کر کہا ”اب آپ ہی میرے بینک تشریف لائیں۔
اس نے کہا ”بہتر،مگر بھائی جان سے ضرور میری طرف سے معذرت کر لیں۔میں نے ُدکھ پہنچایا ہے انہیں۔جانے کیا سوچا ہو گا انہوں نے میرے بارے
“میں۔
جواد مجھے یہ رو داد سنا کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا کیونکہ اس نے اپنے کپڑے بھی ابھی تبدیل نہیں کئے تھے۔
“واپس آیا تو اس کے چہرے کا رنگ ُاڑا ہوا تھا،کہنے لگا ”بھائی جان!میری جیب کٹ گئی ہے۔
میں نے دوڑ کر اپنی جیب دیکھی تو وہ بھی بٹوے سے محروم تھی اور افسردہ و غمگین جواد دیوار سے لگا کہہ رہا تھا ”بھائی جان!ہماری نظروں نے
“دھوکا کھایا ہے۔وہ میرا دوست خالد نہیں تھا۔
وشی سے ک ِھل ُاٹھا
یہ آج سے تقریب ًا تیس سال پہلے کا واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش آیا تھا۔میں اپنی نوکری کے لئے سکھر آیا تھا یہاں میرے ماموں رہتے تھے۔تو کچھ دن
میں ان کے گھر ٹھہر گیا کہ جب تک کہیں اور میرا رہنے کا بندوبست نہیں ہو جاتا۔ماموں جان کے گھر میں کئی سالوں کے بعد آیا تھا بچپن میں کبھی
اماں جان کے ساتھ آیا کرتا تھا۔
ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے۔نئی نئی نوکری تھی میں اس میں ُالجھا ہوا تھا۔ایک رات میں دیر سے گھر لوٹا کھانا کھا کر میں اپنے کمرے کی جانب بڑھا
تو مجھے ایسا محسوس ہوا کوئی اوپر کی جانب گیا ہو۔میرا کمرہ زینے کے سامنے تھا اور اوپر ایک کمرہ تھا جو بند پڑا تھا ماموں نے مجھے پہلے دن ہی
وہاں جانے سے منع کیا تھا کیوں یہ نہیں بتایا تھا۔
میں نے بھی زیادہ نہ پوچھا۔
مگر اس وقت کون گیا ہو گا وہاں یہ سوچ کر میں اوپر چلا گیا۔کمرے کے باہر پہنچا تھا کہ اندر سے مجھے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی دل ُبری طرح
دھڑکا فطری تجسس کے باعث میں نے دروازہ کھولا۔
اندر کوئی بھی نہیں تھا میں نے نظر گھما کر چاروں جانب دیکھا کمرہ عرصہ بند رہنے کی وجہ سے گرد آلودہ ہو رہا تھا آوازوں کو اپنا وہم جان کر میں
پلٹنے ہی لگا تھا کہ میری ممانی نے مجھے پیچھے سے پکارا۔
میں نے چونک کر دیکھا۔مجھے حیرت بھی ہوئی کہ وہ کبھی سیڑھیاں نہیں چڑھتی تھی پھر اوپر،مگر انہوں نے کہا کہ مجھے اوپر آتے دیکھا تو میرے پیچھے
چلی آئیں۔
مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ مجھے لگا کوئی یہاں آیا ہے دیکھنے چلا آیا۔خیر میں ان کے ساتھ نیچے آنے لگا ابھی دو تین سیڑھیاں ہی ُاتارے ہوں
گے کہ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے پیچھے پھر ہنسا ہو مگر وہاں تو ممانی تھی میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی گردن گھمائی اور میرے ہوش ُاڑ گئے میرے
پیچھے ممانی کے بجائے ایک جھلسے ہوئے چہرے والی لڑکی کھڑی تھی جس کی آنکھیں سرخ تھیں۔
خوف سے میں سیڑھیوں سے نیچے گڑ پڑا۔وہ آہستہ آہستہ میرے پاس آ رہی تھی میری آواز حلق میں ہی رہ گئی تھی بامشکل میں چیخا تو میری آواز پر
ممانی اور ماموں اپنے کمرے سے بھاگے آئے۔
میری حالت بہت غیر ہو چکی تھی میں نیم بے ہوشی میں تھا مگر مجھے وہ لڑکی اپنے سامنے محسوس ہو رہی تھی۔ماموں شاید سمجھ چکے تھے مجھے
کیا ہوا ہے۔انہوں نے مجھ پر دم کیا اور اپنے کمرے میں لے گئے۔
کچھ دن بعد جا کر میری حالت بہتر ہوئی۔میں نے ُاس رات کا تمام حال کہہ سنایا تو ماموں نے بتایا کہ اوپر بند کمرے میں آسیب ہیں اس لئے وہاں
کوئی نہیں جاتا۔مگر وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے تم نے شاید وہ دروازہ کھولا ہو گا اس لئے تمہارے ساتھ ایسا ہوا۔اس کے بعد میں جتنا وقت بھی ان
کے گھر رہا کبھی زینے کے پاس بھی کھڑا نہیں ہوا۔