CHARTER OF DEMAND
ہمارا تعلق آل کراچی رئیلٹرز ایسوسی ایشن سے ہے جو کہ کراچی کے مختلف عالقائی ایسوسی ایشنز کی مدر
باڈی ہے اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے جو
بھی مسائل درپیش ہیں اُن کا احاطہ کر کے متعلقہ حکام اور گورنمنٹ آفیسرز کو آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری کا
حصہ ہے۔ آل کراچی ریلٹرز ایسوی ایشن پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ پاکستان کی اہم ترین باڈی ہے
اور کراچی شہر کی عالقائی ایسوسی ایشنز آل کراچی رئیلٹر ایسوسی ایشن کا حصہ ہی
KDAکی بہتری اور کرپشن روکنے کی تجاویز
) (1فائل ٹرانسفر /لیز / heirship /موٹیشن /گفٹ ڈیڈ کیلئے ون ٹنڈ سروس بحال کی جائے۔ کراچی کے ہر ایریا
کے counter'sہوں وہاں ٹرانسفر کیلئے سیلرا پر چیزر کا statementلیا جائے۔ اسٹیمیٹ لینے کے بعد KDA
ایک ماہ کے اندر ٹرانسفر لیٹر جاری
) (2فائل verificationکیلئے Special Counterہوں ،کسی بھی فائل کی verificationکیلئے application
پالٹ اونر کے NICکے ساتھ موصول کی جائے اور ادارہ computerized officialویرفیکیشن جاری کرلے۔
) (3فائل ٹرانسفر /لیز / heirship /موٹیشن /گفٹ ڈیڈ statementلینے سے پہلے - ۷ / ۷۷ / ۷۷ / ۱/۷۱
/ ۱۷/ ۱۷۷Pharmaمیں درج ساری requirementsسیر پر چیز کی طرف سے ایک ہفتہ قبل متعلقہ counter
میں جمع کروائی جائیں اُس کے بعد ادارہ آفیشل receivingدے اور سیلر پر چیز کا اسٹیٹمنٹ ٹائم اور دن درج ہو۔
statementلینے سے پہلے تمام legalفارمیلیٹیز پوری کی جائیں اُس کے بعد ادارہ کوئی نیا ڈا کو میٹ نہیں
مانگ سکتا اور مالک کو ٹرانسفر دینے کا پابند ہو
) (4ٹرانسفر statementلینے سے پہلے KDAکے تمام ڈیوز کلیئر کیئے جائیں اور کوئی objectionہے تو اُس
کو دور کیا جائے اور NOCفارسیل جاری کیا جائے
کیلئے الگ counter'sہوں جہاں لیز NOC for map / ) (5لیزNOC for map / heirship cases /
heirship cases/کا اسٹیٹمینٹ لیا جائے۔
) KDA (6ایسے االئیز جن کے پالٹس پر قبضے ہوئے یا اُن کو جگہ نہیں ملی کو alternateفائلز دی جا چکی
ہیں۔ ان فائلز کوٹر انسفر کیلئے بھاری رشوت لی جاتی ہے اور لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے جبکہ نیب /اینٹی
کرپشن کی طرف سے بھی مسائل ہیں۔ اس کیلئے ادارے کی طرف سے واضح پالیس دی جائے ۔ جن لوگوں کو
قانون کے مطابق alternateفائل دی گئیں ہیں اُن کیلئے regularizedکی پالیسی جاری کی جائے اور
ریزیڈینشیل پالٹس کیلئے 0222گز جبکہ کمرشل پالٹس کیلئے 0222گز فیس لے کر اُن کو regularizeکیا جائے
اس سےاربوں روپے گورنمنٹ کے خزانے میں جمع ہوں گے اور جنرل پبلک جو کہ یہ پالٹس لے چکی ہے کہ
مسائل بھی ختم ہوں گے۔
) 600 (7گز اور اُس سے بڑے پالٹس کیلئے bifarcationکی پالیسی جاری رکھی جائے اور چونکہ
bifarcationکی فیس جو کہ سرکاری خزانے میں جاتی ہے بہت کم ہے اور 222گز کے پالٹس پر 02سے 01
الکھ روپے رشوت لی جاتی ہے تو تجویز ہے کہ 222گز کی bifarcationفیس 02الکھ روپے کر دی جائے اور
اگر پالٹ 222سے زائد ہے تو 022گز پر 1الکھ کے حساب سےفیس لی جائے ۔ جیسا کہ 022گز ہے تو 0
پالٹ 022گز کے ہوں گے تو فیس 01الکھ بنتی ہے۔
) (7/Aآفیشل فائل verificationکی فیس = 0222/روپے رکھی جائے کیوں کہ یہ فائل verificationکیلئے
ہرشخص 0222رشوت دیتا ہے جبکہ کمپیوٹراز verificationجاری کی جائے
) (7/Bچیک اینڈ verifiedسائٹ پالن اور possessionآرڈر یا کوئی بھی CTCپیپر جاری کرنے کی سرکاری
ٹیمہ 120222روپے رکھی جائے کیوں کہ ان کاموں کیلئے KDAمیں آفس میں ہی رشوت دی جاتی ہے اور اسکے
لئے ون ونڈ دوسروس دی جائے اور departmentپوری ذمہ داری سے یہ کاغذات جاری کرئے تا کہ جنرل
پبلک کو خوار نہ ہونا پڑے۔
)KDA (8کراچی میں 0092کے بعد کوئی بھی نئی اسکیم ابھی تک announceنہیں کر سکا جس پر ایک سوالیہ
نشان ہے۔ نئی اسکیموں پر کام کیا جائے اور فوری جنرل پبلک کیلئے نئی اسکیم شروع کی جائیں جو کہ بہت
ضروری ہے۔
( )9ان تمام چیزوں کو مانیٹر کرنے اور جنرل پبلک کی شکایت حل کرنے کیلئے ایک مکمل آزاد complaintسیل
بنایا جائے اور جنرل پبلک کیلئے complaintنمبر بھی جاری کیا جائے ۔ اور complaint cellکا باقاعدہ کوئی
ڈائریکٹر ہو جو پوری مستعدی سے کام کرئے۔
) D.G (10کراچی ڈویپمنٹ اتھارٹی اور D Gلینڈ یپارٹمنٹ ہر ماہ میں ایک دفعہ جنرل پبلک کی شکایت سنے
کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد کریں جس میں ڈائریکٹر complaint cellبھی ہوں ۔
) KDA (11کے آفیسر زروم میں جنرل پبلک کا داخلہ بند کیا جائےکسی بھی شخص کو کوئی شکایت ہے تو
وہ cell complaintسے رابطہ کرے اور اُس کی شکایت کے حل کیلئے متعلقہ آفیسر سے رابطہ کرئے اور اُس
کی شکایت کا ازالہ کیا جائے۔
) (12جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے اکثر آفیسرز اور KDAایمپالئز آفس میں لیٹ آتے ہیں اور کی کئی روز
چھٹی پر ہوتے ہیں اس کا کیلئے بائیو میٹرک سسٹم الگو کیا جائے۔
) (13اکثر آفیسر زکئی کئی دن آفس میں موجود نہیں ہوتے اور پیشی کیلئے نیب /اینٹی کر پشن اور کورٹ میں
جاتے ہیں۔ اس کیلئے آفیسر ز کو پابند کیا جائے کہ وہ پبلک او ورنہ میں KDAمیں موجود ہوں گے اور اس کے
بعد نیب یا اینٹی کر پشن جاسکتے ہیں۔
) KDA (14کی جن جگہوں پر قبضے ہو چکے ہیں اور عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت ہیں اُن کیلے مستند وکالء
کی ٹیم بنائی جائے جومقدمات کوفوری نمٹا سکیں کیوں کہ KDAکے وکالء عدالتوں سے ریلیف لینے میں سالوں
لگا دیتے ہیں جو کہ ادارے کی بہت بڑی نا اہلی ہے۔
( )15جو بھی جگہیں KDAاور KMCکی jurisdictionمیں آتی ہیں وہاں پھلوں اور پٹھاروں کی جگہ خوبصورت
کین بنا کر جنرل پبلک کو دیئے جائیں اور ساالنہ فیس وصول کی جائے جسمیں کیبن کی فیس 010222اور ساالنہ
کرایہ 0220222روپے ٹوٹل = 0020222/روپے تک رکھا جائے ۔ جس سے اربوں روپے KMCاور KDAکے
فنڈ میں آئے گا اور شہر بھی خوبصورت بن جائے گا۔
( MPGO )16کو SBCAکی بجائے KDAکے handoverکی جائے کیوں کہ SBCAصرف نقشہ پاس کرنے کی
ایک اتھارٹی ہے اور کراچی کی زمین KDAکی jurisdictionہے۔ اسلئے تاریخی ،اخالقی ،قانونی لحاظ سے
،MPGOکراچی developmentاتھارٹی کا حصہ بنتا ہے۔
۔