Successful Life?? ?
Successful Life?? ?
1 message
🎓🏻👨
>KHURRAM SHAHZAD <[email protected] Mon, 29 Nov 2021 at 12:54 pm
To: [email protected]
#Inspirational_motivational_hearttouching
June 22, 2020
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع الڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی
بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ ہر قدم پر انھیں نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد کا سامنا رہا۔
سنہ 2019کے سینٹرل سپیریئر سروس کے امتحانات کے نتائج میں وہ میرٹ لسٹ پر 260ویں نمبر پر آئے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے
کے بعد وہ ان لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔
زوہیب قریشی نے اپنی کہانی صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ سنیے ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔
’ہمارا گھر ہمارے گیراج کی باالئی منزل پر تھا۔ بچپن ہی میں دیکھا کہ بابا اور امی ہمیشہ یہ بات کرتے تھے کہ ہم تینوں کو خوب پڑھائیں گے اور یہ بڑے
افسر بنیں گے۔
یہ 2003کی بات ہے۔ مجھے اور میرے بڑے بھائی احمر قریشی کو بابا نے الڑکانہ کے مشہور پرائیوٹ سکول شمس پبلک سکول میں داخل کروایا۔
میں نے چھٹی جماعت تک اپنی امی ہی سے پڑھا تھا وہ ہی ہوم ورک وغیرہ کرواتی تھیں۔ بابا اور امی ہمیں سی ایس ایس کروانا چاہتے تھے جس کے لیے
انھوں نے مجھے انگریزی کی ٹیوشن بھی لگا دی تھی۔
جب میں چھٹی اور ساتویں کالس میں پہنچا تو اس وقت کیڈٹ کالج الڑکانہ کے طالب علموں کو مخصوص قسم کے شاندار یونیفارم میں بڑی شان سے آتا
جاتا دیکھتا تو میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کیڈٹ کالج الڑکانہ میں پڑھوں۔
اس خواہش کا ذکر بابا اور امی سے کیا تو وہ فورا راضی ہو گئے۔ امی نے کہا کہ محنت کرو امتحان پاس کرو اور جہاں چاہتے ہو پڑھو ہمیں تو بہت خوشی
ہو گی۔
مگر ایک عجیب بات ہوئی جب میں داخلہ وغیرہ جمع کروانے کے لیے گیا تو وہاں پر موجود عملے نے میرے بابا سے پوچھا کہ کیا تمھیں پتا ہے کہ یہ الڑکانہ
کیڈٹ کالج ہے۔ تم بیٹے کی فیس ادا کرسکو گے۔ میرے بابا نے کہا کہ فکر نہ کریں میں محنت کرسکتا ہوں بیٹے کے لیے سب کچھ کر لوں گا۔
یہ 2005کی بات ہے،اس زمانے میں میری تین ماہ کی فیس 24ہزار روپے ہوتی تھی۔ بابا اچھے اور بڑے میکنک تو ضرور تھے مگر ظاہر ہے اتنی آمدن تو
نہیں تھی۔ مگر اس فیس کا وسیلہ خود بخود اس طرح پیدا ہوگیا کہ میرے بابا نے کچھ سال قبل اپنے بچوں کے نام پر بینک میں ایک الکھ روپیہ رکھا ہوا
تھا۔
کچھ مشکل کے بعد ہمیں وہ پیسے مل گئے اور منافع لگ کر اب وہ دس الکھ بن گئے تھے۔ اب جب ان پر منافع آتا تو بابا اس سے میری فیس ادا کرتے تھے۔
سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا۔ میرے بابا کے پاس جب بڑے لوگ گاڑیاں ٹھیک کروانے آتے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ ذکر کرتے تھے کہ میرے تینوں
بچے پڑھ رہے ہیں۔ میرا تو بالخصوص ذکر کرتے کہ وہ کیڈٹ کالج میں پڑھتا ہے۔
میں نے 2010میں الڑکانہ کیڈٹ کالج سے اعزاز کے ساتھ ایف ایس سی کی تھی۔ مجھے بہترین طلب علم کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ مگر اب بابا کی
طبیعت کچھ خراب رہنا شروع ہو چکی تھی۔
ایف ایس سی کے بعد میں نے دو مرتبہ کمیشن افسر بننے کی کوشش کی۔ دونوں مرتبہ آئی ایس بی تک پہنچا مگر منتخب نہ ہوسکا۔ بہت مایوسی ہوئی
مگر میرے بابا ،امی ،آپی اور بھائی میرے مددگار بن گئے۔
میں کبھی بھی نہیں بھول سکوں گا کہ بابا نے کہا کہ کیا ہوا اگر منتخب نہیں ہوئے ،دنیا تو ختم نہیں ہوئی چلو آگے بڑھو ،پڑھو اور سی ایس پی افسر بنو۔
اس کے بعد مہران یونیورسٹی جامشورو میں مکینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔ ظاہر ہے بابا سارا خرچہ اٹھا رہے تھے۔ میری آپی اور بڑے بھائی پڑھ رہے
تھے۔ اس دوران 2012میں بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہونا شروع ہو گئی۔ وہ شوگر کے دائمی مریض تھے احتیاط نہیں کرتے تھے۔
2012میں بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جس پر اب وہ گھر ہی پر رہتے تھے جبکہ بھائی گیراج میں کام کرتے تھے۔لوگوں کو پتا چلنا
شروع ہوگیا کہ اب بابا گیراج میں نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکال کہ اب گاڑیاں آنا کم ہو چکی تھیں۔ گیراج کا کام تقریبًا ختم ہوچکا تھا۔ جس پر بھائی
نے گیراج والی جگہ ایک ہوٹل والوں کو کرائے پر دے دی تو خود دور ایک عالقے میں گیراج کھول کر نئے سرے سے جدوجہد شروع کر دی تھی۔
میں جب گھر آتا تو کہتا کہ میں پڑھائی چھوڑ کر کوئی مالزمت کرتا ہوں تو بابا مجھے حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ،بھائی اور آپی میرا حوصلہ
بڑھاتے وہ مجھے کہتے کہ تم بس دل لگا کر پڑھو اور سی ایس ایس کر لو پھر سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔
اس دوران بابا کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ان کو لے کر آغا خان ہسپتال کراچی چلے گے۔ وہ ہسپتال میں ہوتے مگر میرے امتحان یا کالسیں ہو رہی
ہوتیں۔ اس دوران میں کچھ گھنٹوں کے لیے ان کے پاس جاتا۔
اس موقع پر بابا مجھ سے پوچھتے کہ امتحان تو نہیں ہو رہا ،کالس تو نہیں ہے۔ بابا سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا کالسوں یا امتحان کا کہتا تو وہ کہتے
کہ جاؤ اپنی پڑھائی دل لگا کر کرو۔
بابا کے عالج کے دوران ہماری تمام جمع پونجی ختم ہو گئی اور بابا بھی اتنی ہی زندگی لے کر آئے تھے۔ میں ان کی کوئی خدمت نہیں کر سکا تھا جس کا
مجھے بہت مالل ہے۔
بابا کی موت کے بعد میں ٹوٹ گیا تھا۔ میرے سامنے وہ سب مناظر خواب کی طرح گھومتے تھے جن میں بابا گیراج میں کام کرتے ہوئے اپنے گاہگوں سے
کہتے کہ بس بیٹا کیڈٹ کالج چال گیا ہے بس چند ہی سال میں آفسر بن جائے گا۔
میرے والد 2014میں فوت ہوئے۔ میں نے 2015میں مہران یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ڈگری لے لی تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سی ایس ایس کیسے
کیا جائے۔ کچھ بھی پتا نہیں تھا۔
یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو سندھ کے محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ اسٹنٹ کی مالزمتیں آئیں۔ میں نے امتحان اور انٹرویو دیا اور منتخب ہو گیا۔ اب یہ ہوتا
تھا کہ صبح موٹر سائیکل پر نکلتا اور شام کو واپس آتا۔ مگر شام کو گھر واپس آ کر سی ایس ایس کی تیاری کرنے کی کوشش کرتا۔
اس دوران ایک لیکچرر شپ آئی وہاں امتحان دیا تو وہاں بھی کامیاب ہوگیا مگر وہ عارضی تھی۔ امی ،آپی اور بھائی کچھ ماہ تو میری روٹین دیکھتے
رہے۔ پھر ایک دن آپی نے پوچھا کہ میرا کیا پروگرام ہے۔ میں نے کہا کہ مالزمت کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ سی ایس ایس کی تیاری بھی کرنے کی کوشش کرتا
ہوں۔
آپی نے کہا کہ نہیں بھائی اس طرح نہیں چل سکتا۔ سی ایس ایس کی تیاری مذاق نہیں ہے۔ اس کے لیے دل جمعی اور محنت کی ضرورت ہے۔ مگر میں تو
بہت کچھ سوچ رہا تھا۔
گھر کے معاشی حاالت کے بارے میں ،آپی اور بھائی کب تک محنت کر سکتے تھے۔ جس وجہ سے مالزمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر پھر بھائی نے
کہا کہ کیا مسئلہ ہے۔ بابا کی خواہش کون پوری کرے گا۔ بھائی نے کچھ اس لہجے میں کہا کہ میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔
میری تنخواہ 35ہزار روپیہ تھی۔ یہ 2017کا سال تھا۔ اس دوران میں نے کوئی ڈیڑھ الکھ روپیہ جمع کرلیا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ جو مالزمت میں
کررہا ہوں یہ میرا مستقبل نہیں ہے۔ مگر معاشی حاالت بھی میرے سامنے تھے۔
اس کے ساتھ امی ،آپی اور بھائی کا اصرار بڑھتا جارہا تھا۔ میں عجیب سی کشمکش میں مبتال تھا۔ ایک طرف میرے بابا کی خواہش ،میرے گھر والوں کا
ارمان اور دوسری طرف خدشات اور یقین کرئں کہ کچھ بھی پتا نہیں تھا کہ سی ایس ایس کی تیاری کیسے کرنی ہے۔ کیا پڑھنا ہے۔
میں جب بھی فارغ ہوتا تو الڑکانہ کی الئبریری میں چال جاتا وہاں پر پڑھتا ،کچھ ایسے لوگوں کے پاس بھی گیا جنھوں نے سی ایس ایس کیا ہوتا تھا ان
سے مدد مانگی مگر بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر مدد ملی۔
کچھ معلومات حاصل کیں۔ میرے ایک دوست اسالم آباد میں ہوتے تھے اور سی ایس ایس ہی کی تیاری کررہے تھے۔ میں نے ان سے بات کی انھوں نے کچھ
بتایا اور سمجھایا اور کہا کہ اسالم آباد آ جاؤں مل کر تیاری کرتے تھے۔
اب فیصلہ کن گھڑی تھی۔ دو ،تین راتیں سو نہیں سکا ،مالزمت چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ پھر ایک صبح اٹھا امی ،آپی اور بھائی کو بتایا کہ میں اب
سی ایس ایس کی تیاری کرنے اسالم آباد جا رہا ہوں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کی۔ مالزمت سے استعفی دیا اور اسالم آباد چال گیا۔
یہ ہاسٹل خرچے کے لحاظ سے تو بہت کم تھا۔ تین ہزار ماہوار مگر دیگر بہت مسائل تھے۔ کھانے کا مسئلہ ،ٹوائلٹ کے لیے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا۔ پانی
النے کے لیے رات کو دو بجے کسی اور جگہ جانا پڑتا تھا مگر رات گزارنے کو چھت دستیاب تھی۔
سی ایس ایس کی تیاری کے لیے میں نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ اپنی انگریزی بہتر کرتا ،انگریزی میں گھنٹوں بیٹھ کر مضمون لکھتا ،دنیا جہاں کے اخبار
پڑھتا تھا ،جو کچھ کرسکتا تھا کرتا رہا۔
اب ایک اور مسئلہ بھی ہو چکا تھا۔ میرے دوست ،رشتہ داروں کو جب پتا چلتا کہ میں نے سی ایس ایس کرنے کے لیے سرکاری مالزمت سے استعفٰی دے دیا
ہے تو وہ عجیب عجیب باتیں کرتے تھے۔ ایسی باتیں کرتے کہ میری دل آزاری ہوتی ،اسی ماحول کے اندر میں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا اور واپس
الڑکانہ چال آیا۔
مگر جب نتیجہ آیا تو میرا ایک مضمون رہ گیا تھا۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ مضمون کیا رہا میرے دنیا ہی اچاٹ ہوگئی۔
اس دوران آپی اور بھائی کی بھی شادی ہوگئی تھی۔ بھائی کا کام کچھ اچھا ہو گیا تھا۔ ان کو جب پتا چال کہ میرا ایک مضمون رہ گیا تو انھوں نے کہا
کوئی بات نہیں دوبارہ کوشش کرو۔ ایک مضمون ہی تو رہا ہے ،اگلے سال اس میں ضرور کامیاب ہو جاؤ گے جبکہ امی کچھ خفا سی ہوئیں مگر انھوں نے
بھی حوصلہ بڑھایا۔
ادھر سب دوست رشتہ دار فون کرتے ،مالقات ہوتی تو مجھے مالزمت سے استعفٰی دینے پر مالمت کرتے تھے ،حاالنکہ استعفٰی میں نے دیا تھا ،ذمہ دار بھی
میں خود ہی تھا۔ میری آپی ،بھائی ،چاچو کو کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر لوگوں کو کیا مسئلہ تھا۔
یہ وہ موقع تھا جب میں مایوس ہو گیا تھا۔ بہت کچھ سوچتا اور چپ ہوجاتا تھا ساتھ ساتھ مالزمت بھی تالش کرتا تھا مگر لگتا تھا کہ مالزمت تو
جیسے روٹھ ہی گئی ہے۔ اس موقع پر بھی میرے کچھ دوست میری مدد کو پہنچے۔
سندھ پبلک سروس کا اشتہار آیا اوردوست نے فارم بھروائے مجھ سے دستخط کروائے اور بھجوا دیا۔ اب 2019تھا مالزمت تھی نہیں سندھ پبلک سروس
کا امتحان دیا تو پاس ہو گیا۔
میں نے اس مرتبہ امی ،آپی اور بھائی سے کہا کہ میں اسالم آباد جانا چاہتا ہوں انھوں نے اجازت دے دی۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں کہ چاہے کچھ بھی ہو
مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ مگر اپنے گھر والوں کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔
اب وہ ہی اسالم آباد،وہ ہی مشکالت وہ ہی ہاسٹل تھا۔ اپنا موبائل نمبر بھی بند کر دیا صرف گھر والوں کو فون کرتا اور بند کر دیتا تھا۔ صبح اٹھتا،
الئبریری جاتا ،پڑھتا جاتا اور لکھتا جاتا۔ نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کی فکر۔
ایک جنون طاری ہوچکا تھا کہ مجھے سی ایس ایس کرنا ہے۔ اپنے لیے نہیں مگر ان کے لیے کرنا تھا جن کا میں فخر بنا ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتا میں نے کتنے
دن اسالم آباد میں گزارے اور کس طرح گزارے بس امتحان ہوا اور میں واپس الڑکانہ چال آیا۔
اس دوران سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحریری امتحان کا اعالن ہوا۔ میں اس میں کامیاب ہوگیا۔ چند دن بعد انٹرویو کی تاریخ بھی آگئی۔
اس دوران انٹرویو ہوا مگر میں رہ گیا تھا۔ جانتے ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیا تو اس وقت کہا چلو سی ایس ایس نہیں تو سندھ پبلک
سروس کمیشن ہی سہی کوئی نہ کوئی محکمہ تو مل جائے گا۔
انٹرویو میں رہنے کی خبر بھی تمام رشتہ داروں اور دوستوں کو مل گئی۔ اب ایک بار پھر وہ ہی طنز کے نشتر ،میں اور میری بے روزگاری تھی۔
یہ وہ حاالت تھے جب میں تنہائی میں خوب روتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ اللہ سائیں مجھ پر نہیں تو میرے گھر والوں پر رحم و کرم کر دے۔
خوشی کے آنسو
یہ اکتوبر 2019تھا۔ میں اپنے چاچو کے لیے دوائی لینے کے لیے کیا ہوا تھا۔ مجھے پتا چال کہ سی ایس ایس کے تحریری امتحان کا نتیجہ آچکا ہے۔ یقین
کریں اس وقت میری ٹانگوں میں جان نہیں تھی۔ بمشکل چاچو کی دوائی لی اور دیوار کے قریب کھڑا ہوگیا۔
مجھے میرے دوست نے فون کیا کہ یار تمھارا نام تو کامیاب امیدواروں کی فہرست میں ہے۔ اس نے مجھے سے رول نمبر کنفرم کرنا چاہتا میں نے کہا کہ
گھر جا کر بتاتا ہوں۔
پھر دوسرے دوست کا فون آیا۔ اس کو بھی یہ ہی کہا۔ گھر آکر اپنی رول نمبر سلپ تالش کرنا شروع کردی۔ اس دوران میرا بھائی آیا پوچھا کیا کر رہے ہو
میں نے کہا کچھ نہیں تو وہ مسکرا دیا ،کچھ نہ بوال ،اس کے بعد آپی بھی آگئیں انھوں نے بھی پوچھا میں نے کہا کچھ نہیں ،وہ بھی مسکرا دیں۔
تھوڑی ہی دیر میں گھر والوں میں سے کسی نے رول نمبر سلپ ال دی۔ رول نمبر سلپ میں نتیجہ دیکھا تو میں تحریری امتحان میں پاس ہو گیا تھا۔ مجھے
یقین نہیں آ رہا تھا۔ بھائی اور آپی سامنے آگئے وہ ابھی مسکرا بھی رہے تھے ،جیسے انھیں پہلے سے پتا ہو۔
میں دوڑا دوڑا امی کے پاس گیا اور ہم سب مل کر اتنا روئے ،اتنا روئے کے میں بتا نہیں سکتا مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔
سب کے سامنے کہے ہوئے ان جملوں نے میرا دل چیر کر رکھ دیا۔ بس پھر ایک جنون طاری ہو گیا کہ انٹرویو پاس کرنا ہے ،ہر حال میں کرنا ہے۔
میں شیشے کے سامنے کھڑا ہو جاتا گھنٹوں اردو ،انگریزی میں شیشے کے سامنے بات کرتا ،تقریر کرتا وہ سب کچھ کرتا جس کی مجھے سمجھ تھی۔
میں امید اور مایوسی کی کیفیت میں رہا ،ساتھ ساتھ مالزمتیں بھی تالش کرتا رہا۔ آپی ،بھائی اور امی میری حوصلہ افزائی کرتے۔ چند دن پہلے پتا چال کہ
انٹرویو کے نتائج بھی آچکے ہیں کامیاب امیدواروں کو محکمے بھی االٹ ہو گئے ہیں۔ مگر میں اپنے کمرے سے نہیں نکال۔
جب کافی وقت گزر گیا تو آپی آئیں ہمیشہ کی طرح میرے لیے مسکراتے ہوئے خوشخبری الئیں۔ میرا نمبر 260واں تھا اور مجھے ِان لینڈ اینڈ ریونیو کا
محکمہ االٹ ہوا تھا اور اکتوبر سے میری تربیت شروع ہو گی۔
جانتے ہیں ہم سب مل کر ایک بار پھر روئے۔ یہ بھی خوشی اور کامیابی کے آنسو تھے۔ یہ میری کامیابی نہیں تھی میرے گھر والوں کی کامیابی تھی۔
اتوار کو پوری دنیا میں فادر ڈے منایا گیا تو ہم پھر پرنم آنکھوں سے اپنے والد کو یاد کرتے رہے۔ وہ ہوتے تو ہم ان کو بتاتے کہ دیکھیں جو خواب آپ نے
دیکھا پورا ہوگیا۔
یہ سچ ہے کہ اگر محنت کی جائے دل سے کی جائے اور دیوانہ وار کی جائے تو کچھ تاخیر ہوسکتی ہے مگر وہ رنگ ضرور التی ہے۔‘